|
حضورتاج الشریعہ دام ظلہ علینااخلاق حسنہ اور صفات عالیہ کا مرقع ہیں۔حکمت و دانائی ، طہارت و پاکیزگی ،بلندیئ کردار،خوش مزاجی و ملنساری ،حلم و بردباری ، خلوص و للّٰہیت،شرم و حیا،صبر و قناعت ،صداقت و استقامت بے شمار خوبیاں آپ کی شخصیت میں جمع ہیں ،وہیں آپ زہد و تقویٰ کا بھی مجسم پیکر ہیں۔آپ کے تقویٰ کی ایک جھلک ذیل کے واقعات میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
مولانا غلام معین الدین قادری (پرگنہ ،مغربی بنگال)لکھتے ہیں:''حضورتاج الشریعہ سے حضرت پیر سید محمد طاہر گیلانی صاحب قبلہ بہت محبت فرمایا کرتے ان کے اصرار پر حضرت پاکستان بھی تشریف لے گئے وہاں کی سرحد پر حضرت کا استقبال صدر مملکت کی طرح ٧/ توپوں کی سلامی دے کر کیا گیا۔حضرت کا قیام ان کے ایک عزیزشوکت حسن صاحب کے یہاں تھا راستے میںایک جگہ ناشتہ کا کچھ انتظام تھاجس میں انگریزی طرز کے ٹیبل لگے تھے حضرت نے فرمایا :''میں پاؤں پھیلاکر کھانا تناول نہیںکروں گا۔'' پھر پاؤں سمیٹ کر سنت کے مطابق اسی کرسی پر بیٹھ گئے یہ سب دیکھ کر حاضرین کا زور دار نعرہ ''بریلی کا تقویٰ زندہ باد '' گونج پڑا ۔ '' [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :٢٥٥]
مولانا منصور فریدی رضوی (بلاسپور ،چھتیس گڑھ)حضرت کے ایک سفر کا حال بیان کرتے ہیں:''محب مکرم حضرت حافظ وقاری محمد صادق حسین فرماتے ہیںکہ ، حضرت تاج الشریعہ کی خدمت کے لئے میں معمور تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنے مقدر پر ناز کررہا تھا کہ ایک ذرہ ناچیز کو فلک کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہورہا تھا اچانک میری نگاہ حضوروالا(تاج الشریعہ ) کی ہتھیلیوں پر پڑی میںایک لمحہ کے لئے تھرا گیا آخر یہ کیا ہورہا ہے میری نگاہیں کیا دیکھ رہی ہیںمجھے یقین نہیں ہورہا ہے ۔ آپ تو گہری نیند میں ہیںپھر آپ کی انگلیاں حرکت میں کیسے ہیں؟ میں نے مولانا عبد الوحید فتح پوری جو اس وقت موجود تھے اور دیگر افراد کو بھی اس جانب متوجہ کیا تما م کے تما م حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے تھے ، معاملہ یہ ہے کہ آپ کی انگلیاں اس طرح حرکت کررہی تھیں گویا آپ تسبیح پڑھ رہے ہوںاور یہ منظرمیں اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک آپ بیدار نہیں ہوگئے ۔ان تمام تر کیفیات کو دیکھنے کے بعد دل پکار اٹھتا ہے کہ سوئے ہیں یہ بظاہر د ل ان کا جاگتاہے ''[تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :٣١٤]
ولی باکرامت :۔
حضورتاج الشریعہ دام ظلہ علینا جہاں ایک عاشق صادق، باعمل عالم ،لاثانی فقیہ ، باکمال محدث ،لاجواب خطیب ،بے مثال ادیب ، کہنہ مشق شاعرہیں وہیں آپ باکرامت ولی بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے استقامت سب سے بڑی کرامت ہے اور حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی یہی کرامت سب سے بڑھ کر ہے ۔ ضمناًآپ کی چند کرامات پیش خدمت ہیں۔
مفتی عابد حسین قادری (جمشید پور، جھارکھنڈ )لکھتے ہیں:''٢٢/جون ٢٠٠٨ء محب محترم جناب قاری عبد الجلیل صاحب شعبئہ قرأت مدرسہ فیض العلوم جمشید پور نے راقم الحروف سے فرمایا کہ، ٥/ سال قبل حضرت ازہری میاں قبلہ دار العلوم حنفیہ ضیا القرآن ،لکھنؤ کی دستار بندی کی ایک کانفرنس میں خطاب کے لئے مدعو تھے ۔ ان دنوں وہاں بارش نہیں ہو رہی تھی ،سخت قحط سالی کے ایام گزررہے تھے، لوگوں نے حضرت سے عرض کی کہ حضور بارش کے لئے دعا فرمادیں ۔ حضرت نے نماز ِ استسقاء پڑھی اور دعائیں کیں ابھی دعا کرہی رہے تھے کہ وہاں موسلادھار بارش ہونے لگی اور سارے لوگ بھیگ گئے ۔ ''[تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :٢٢٩]
ڈاکٹر غلام مصطفی نجم القادری (ممبئی) لکھتے ہیں :'' میسور میں حضرت کے ایک مرید کی دکان کے بازو میں کسی متعصب مارواڑی کی دکان تھی ، وہ بہت کوشش کرتاتھا کہ دکان اس کے ہاتھ بیچ کر یہ مسلمان یہاں سے چلا جائے ، اپنی اس جدو جہد میں وہ انسانیت سوز حرکتیں بھی کرگزرتا ، اخلاقی حدوں کو پار کرجاتا، مجبور ہو کر حضرت کے اس مرید نے حضرت کو فون کیا ، حالات کی خبر دی ، معاملات سے مطلع کیا ،حضرت نے فرمایا:''میں یہاں تمہارے لئے دعا گو ہوں، تم وہاں ہر نماز کے بعد خصوصاً اورچلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے عموماً یاقادرکا ورد کرتے رہو۔''اس وظیفے کے ورد کو ابھی ١٥/دن ہی ہوا تھا کہ نہ معلوم اس مارواڑی کو کیا ہوا ، وہ جو بیچارے مسلمان کو دکان بیچنے پر مجبور کردیا تھااب خود اسی کے ہاتھ اپنی دکان بیچنے پر اچانک تیار ہوگیا ۔ مارواڑی نے دکان بیچی ،مسلمان نے دکان خریدی، جو شکار کرنے چلا تھا خود شکار ہو کر رہ گیا۔ آج وہ حضرت کا مرید باغ و بہار زندگی گزار رہا ہے ۔ '' [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :١٧٥،١٧٦]
موصوف مزیدلکھتے ہیں:''ہبلی میں ایک صاحب نے کروڑوں روپے کے صرفے سے عالیشان محل تیار کیا ، مگر جب سکونت اختیار کی تو یہ غارت گرسکون تجربہ ہوا کہ رات میں پورے گھر میں تیز آندھی چلنے کی آواز آتی ہے ۔ گھبرا کر مجبوراً اپنا گھر چھوڑ کر پھر پرانے گھر میں مکین ہونا پڑا۔ اس اثناء میں جس کو بھی بھاڑے (کرایہ )پر دیا سب نے وہ آواز سنی اور گھر خالی کردیا۔ ایک عرصے سے وہ مکان خالی پڑا تھا کہ ہبلی میں حضرت کا پروگرام طے ہوا ، صاحب مکان نے انتظامیہ کو اس بات پر راضی کرلیا کہ حضرت کا قیام میرے نئے کشادہ مکان میں رہے گا ، مہمان نوازی کی اوردیگر لوازمات کی بھی ذمہ داری اس نے قبول کرلی ، حضرت ہبلی تشریف لائے اور رات میں صرف چندہ گھنٹہ اس مکان میں قیام کیا ، عشاء اور فجر کی ٢/وقت کی نماز باجماعت ادا فرمائیں،اس مختصر قیام کی برکت یہ ہوئی کہ کہاں کی آندھی اورکہاں کا طوفان ، کہاں کی سنسناہٹ اور کہا ں کی گڑگڑاہٹ سب یکسر معدوم ، آج تک وہ مکان سکون و اطمینان کا گہوارہ ہے ۔[تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :١٧٦]
|